![]() |
| آن لائن ارننگز کی تاریخ ،وجود اور ممکنات |
آن لائن ارننگز کی دوسری کلاس میں خوش آمدید۔ امید ہوگی پہلی کلاس آپ کو بہت نہیں تو کم از کم تھوڑی بہت پسند آئی ہوگی۔ یہ کلاس میں نے پہلی کلاس کے ساتھ ہی شیڈول کر دی تھی تا کہ آپ لوگ میری مصروفیات یا سستی کی وجہ سے متاثر نہ ہوں۔پچھلی کلاس نہ تو تعارف پر مبنی تھی اور نہ ہی آن لائن ارننگز کا کوئی خاص پہلو نمایاں کر رہی تھی۔مگر اس کلاس میں ہم باقاعدہ تعارف کروائیں گے کہ آن لائن ارننگز کیا بلا ہے اور کیا سچ مچ میں بھی پیسے ملتے ہیں یا ایویں ہی شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔
آن لائن ارننگز کا وجود
کل میں نے ۸ جون کے خبریں اخبار کے کلاسیفائیڈ سیکشن میں ایک پیر کا اشتہار پڑھا جس میں وہ پیر فقیر دعوی کر رہا تھا کہ وہ لوگوں کے لیے آن لائن استخارہ کرتا ہے۔ وہ اشتہار تو میرے پاس پڑا ہے مگر شومئی قسمت کے سکینر نہیں ہے۔ جب بازار جانا ہو گا تو ایک کڑوا گھونٹ بھر کر دس روپے کا سکین کروا لوں گا اور اس آرٹیکل میں پو سٹ کر دوں گا۔ یہ آرٹیکل ہی بتا تا ہے کہ اگر آن لائن استخارہ ہو سکتا ہے تو آن لائن ارننگز بھی ہو سکتی ہیں۔ اور پیر بھی اس استخارے کے بدلے میں پیسے مانگ رہاتھا۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پیسے یا ڈالر حقیقت میں بھی ملتے ہیں۔اب اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتنی مقدار میں پیسے کمائے جا سکتے ہیں تو بھائی جان وہ پیر اتنے پیسے تو کما سکتا ہی ہے کہ اشتہار کی فیس آفورڈ کر سکتا ہے۔ جو یقینی طور میں آفورڈ نہیں کر سکتا۔ مطمئن رہیں ،میں آپ کو ایسا کوئی کام کرنے کو کہوں گا جو پیر صاحب کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد سمجھانے کے علاوہ کوئی نہیں ۔اگر ایسا کوئی کام کرنے کا آپ کا موڈ ہے تو اپنی ذمہ داری پر کریں۔ اس بلاگ کے ایڈمنز، مصنف یا اس بلاگ سے منسلک کوئی شخص ذمہ دار نہیں ہو گا۔آپ کے اپنے افعال کے خالصتاً خود ہی دمہ دار ہوں گے۔
آن لائن ارننگز کی تاریخ :
آن لائن ارننگز کے وجود کے بارے میں میں کوئی خاص تاریخ یا مہینہ بتانے سے قاصر ہوں مگر میں اسے بنی نوع انسان کے ارتقاء سے ہی شمار کروں گا۔کیوں کہ انسان نے شروع میں شکار یا دوسرے کام کیے اور ایک دوسرے کے ساتھ بارٹر سسٹم کے ذریعے تجارت شروع کردی۔ اسی طرح کچھ عرصے بعد سکوں سے ہوتا ہوا نوٹوں سے ہو کر ڈیجیٹل سسٹم تک پہنچ گیا۔ بالکل اسی طرے پہلے زریعہ فرد، پھر ڈاک،موبائل سے ہوتا ہوا موبائل اور ای بینکنگ تک پہنچ گیا۔اب تو اتنی تعداد آف لائن بینکس کی نہیں جتنی آن لائن بینکس کی ہے۔ان آن لائن بینکس کو پیمنٹ پروسیسز کہتے ہیں ۔ انشاء اللہ اگلے آرٹیکل میں ہم پیمنٹ پروسیسز کو ڈسکس کریں گے۔
آن لائن ارننگز ہوتی کیا ہیں
جس طرح ہم روزمرہ زندگی میں بہت سے کام کرتے ہیں۔ اس کام کے عوض ہمیں اجرت ملتی ہے۔جتنے آپ پروفیشنل ہوں گے اتنی آپ کی کمائی ہوگی۔ اسی طرح کچھ کام ہوتے ہیں جو اس خطے میں نہیں ہو سکتے ۔ ان کے دو طریقے ہیں۔ ایک آپ وہ کام کروانے کےلیے دوسرے خطے میں جائیں۔ دوسرا دوسرے خطے سے پروفیشنل منگوالیں۔ دونوں صورتوں میں سفر،رہائش،رقم اور وقت کا خاصی بے دریغی سے استعمال ہوتا ہے۔اسی طرے آپ چھوٹی سی کمپنی کے مالک ہیں اور آپ کو ٹاسک مل جاتا ہے۔ آپ کے ملازمین کی تعداد اس ٹاسک کو وقت پر مکمل نہیں کر سکتے اور نہ ہی آپ اس ٹاسک کو مکمل کرنے کے لیے لوگ رکھ سکتے ہیں۔ تیسرا کیس یہ ہے کہ آپ کسی کمپنی کے مالک نہیں اور آپ کو کوئی کام کرنا پڑ جاتا ہے اور وہ آپ بخوبی سر انجام نہیں دے سکتے۔نہ ہی تو آپ ملازم رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس سب کے لیے باہر جا سکتے ہیں۔
ان سب کیسز میں آپ کسی بھی ٹاسک کو کرنے کے لیے باہر جانا پڑتا ہے یا افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔شروع میں لوگوں کے پاس اتنا وقت ہوتا تھا کہ وہ یہ سب ارینج کر سکتے تھے مگر اب یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اب پروفیشنلز کے پا س بھی اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ سب کام چھوڑ چھاڑ کر دوسرے کام کی طرف چلے جائیں۔ انٹرنیٹ نے سہولت پیدا کر دی ہے کہ یا تو پروفیشنلز سے ڈائریکٹلی آن لائن کام کرا سکتے ہیں یا ویڈیو کال یا کسی اور زریعے سے مدد حاصل کر سکتے ہیں اور کم قیمت پر اپنا کام کرا سکتے ہیں۔اگر آپ کا مسئلہ کسی پروڈکٹ سے متعلق ہے تو ہر مینوفیکچر اپنے کسٹمرز کو مفت ہیلپ اور رہنمائی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔اور اب تو انٹرنیٹ پر بھی ہیلپ مل سکتی ہے۔مگر یہ اتنا آسان نہیں ہے کیوں کہ آرٹیکل اور رئیل لائف میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی بھی فیلڈ میں پروفیشنل ہیں تو آپ آن لائن ہیلپ سے خوب فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اپنی ارننگز کو چار چاند لگا سکتے ہیں۔پروگرامرز کی تو ہر جگہ چاندی ہی ہوتی ہے کیونکہ ان کی کہیں نہ کہیں ایڈجسمنٹ ہو ہی جاتی ہے، رئیل لائف میں بھی اور انٹرنیٹ پر بھی۔دوستو یہ آرٹیکل کافی لمبا ہو گیا ہے۔ میں نے پروگرامنگ پر بھی ایک بلاگ بنایا ہے، اس کو بھی اپ ڈیٹ کرنا ہے۔وہ دوست بھی انتظار کر رہے ہوں گے۔ اگلے آرٹیکل میں ہم پیمنٹ پروسسیسرز پر بات کریں گے۔میں ساتھ ساتھ انڈیکس تیار کررہا ہوں۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ اللہ حافظ

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔