Sunday, July 13, 2014

What Are Payment Processors

What are Payment Processors
What are Payment Processors
اسلام وعلیکم دوستو۔ آن لائن ارننگز کی تیسری کلاس میں خوش آمدید۔ امید ہے آپ کو پہلی دو کلاسز   پسند آئی ہوں گی۔ ان کلاسز  میں ہم نے  آن لائن ارننگز کی بیسکس کو ڈسکس کیا تھا۔ آج کا ہمارا  آرٹیکل پیمنٹ پروسیسرز پر ہو گا۔ پیمنٹ پروسیسرز کا تعارف اتنا بھی ضروری نہیں مگر میں نے جب پہلا آن لائن ارننگ  پروگرام جوائن کیا تھا  تو  رجسٹریشن فارم میں پیمنٹ پروسیسرز کا  ذکر تھا۔ چونکہ میں بالکل اناڑی تھا، مجھے کیا پتا تھا کہ پیمنٹ پروسیسرز کیا ہوتے ہیں۔ اُس ٹائم انٹرنیٹ پراس بارے میں اتنے آرٹیکل بھی دستیاب نہیں تھے کہ میں اس ٹرم کو سمجھ سکتا تھا۔ بھلا ہو پرنس سعد کا جس نے میری راہنمائی کی اور میں پیمنٹ پروسیسرز کو سمجھنے کے قابل ہوا۔ شاید مجھے سمجھ نہ آنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ  میری انگلش کمزور تھی ، جو آج بھی ہے۔
مجھے اس بارے میں نہ پتہ ہونے کی وجہ شاید کم آگاہی ہے۔ یہ حال صرف پاکستان کا نہیں۔   ا س حوالے سے پورے ایشیا  میں بہت کم آگاہی ہے۔ ہمارا میڈیا اس بارے میں آگاہی لا سکتا تھا مگر ہمارے میڈیا کو ناچ گانے سے فرصت  ہی نہیں ملتی کہ وہ اس طرح کے نکمے کاموں میں سر کھپائے۔ وہ تو بس مراسیوں اور میراثیوں کو ہی کو ریج دیتا ہے۔ میراثیوں سے مراد اشرافیہ ہیں جو ہر وقت ہیڈ لائنز کی زینت بنے رہتے ہیں۔ اور گورنمنٹ بیچاری  جمعوریت کی رٹ لگائے رکھتی ہے  ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو بہت کم پیمنٹ پروسیسرز سپورٹ کرتے ہیں اور گورنمنٹ کے ہاتھ سے زر مبادلہ کی کثیر مقدار نکل جاتی ہے۔
جب کوئی شخص آن لائن شاپنگ کرتا ہے تو  اُس  کے لیے بینک اکاؤنٹ سے مرچنٹ کو پے کرنا ممکن نہیں ہوتا۔اگر یہ ممکن بھی ہو جائے تو  پیسہ منتقل کرنے میں کافی وقت صرف ہو جاتا ہے۔ یہ حالات تب بھی پیش آتے ہیں جب  آپ کوئی چیز بیچتے ہیں۔آپ کو پیمنٹ کے لیے کافی انتظار کرنا ہوتا ہے۔ پیمنٹ آئے گی پھر  آپ شاپنگ کریں گے۔ اس طرح تو کوئی  چھوٹی سی ڈیل کرنے میں بھی سالوں لگ جائیں گے۔اسی طرح جب بھی  ہم کسی  آن لائن ارننگ پروگرام کو جوائن کرتے ہیں تو یقینی طور پر ہمارے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ یہ پروگرام جو میں جوائن کر رہا ہو ں اس سے کمایا ہوا پیسہ میرے پاس کیسے  آئیگا۔ میں لینے جاؤں گا۔ یا وہ دینے آئیں گے۔  دونوں کام ناممکن ہی لگتے ہیں۔ رہ گیا آپشن بینک کا  تو اتنی کم آماؤنٹ  تو ٹیکسز کی مد میں کٹ جائے گی۔اس کے لیے ضروری ہو  جاتا ہے کہ آپ پہلے پیسے اکٹھے کریں پھر آپ ان کو  منگوائیں۔ اس کے دو آپشن ہیں۔
۱۔ آپ پیسہ آن لائن ارننگ پروگرام کے اکاؤنٹ میں اکٹھا کریں۔
۲۔ پیسہ کسی تھرڈ پارٹی ویب پر جمع کیا جائے۔
پہلا آپشن تو رسکی اور خطرے سے بھر پور ہے۔ کیوں کہ اس کا اندازہ مجھے اُس وقت ہوا تھا جب لِبرٹی ریزرو  کو امریکن اتھارٹیز نے بند کر دیا تھا۔ اس کے رد عمل میں بہت سارے پروگرامزسکیم ہو گئے تھے۔ اب آپ پتا کرنا چاہیں گے کہ لبرٹی ریزرو  کا کیا مسئلہ تھا تو انشاء اللہ اگلے آرٹیکلز میں اس کو بھی ڈسکس کریں گے۔ دوسرا آپشن تھرڈ پارٹی ویب سائٹس کا تھا۔ اس سوچ کو مدِنظر رکھتے ہوئے پیمنٹ پروسیسرز بنائے گئے۔

پیمنٹ پروسیسرز کیا ہوتے ہیں

جس طرح ہم دروز مرہ زندگی میں بینکوں کا استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً سٹیٹ بینک، ایچ بی ایل  وغیرہ وغیرہ ۔بالکل اسی طرح انٹرنیٹ پر بینک ہوتے ہیں۔ ان کا طریقہ کار بہت آسان ہے، بالکل اسی طرح جس  موبائل بینکنگ ہوتی ہے۔ مثلاً   ایزی پیسہ، یوبی ایل اومنی وٖغیرہ وغیرہ۔ آپ نے بس پیمنٹ سینڈ کرنی ہے۔ اور پیمنٹ سینڈ کرتے وقت اپنا   پِن کوڈ     انٹر کرنا ہوتا ہے۔ جیسے ہی آپ سینڈ بٹن پر کلک کرتےہیں۔ اسی وقت اگلے کے اکاؤنٹ میں پیسے ہوں گے۔  یہ سارا  کچھ اتنا  بھی وقت نہیں لیتا جتنا وقت موبائل بیلنس شیئر کرنے میں لگتا ہے۔ یہ بینکس، موبائل بینکنگ اور انٹرنیٹ بینکنگ  سب پیمنٹ پروسیسرز ہی ہیں۔ انشاء اللہ اگلے ٹاپک میں یہ بات بھی  کلئیر ہو جائے گی۔  یہ آرٹیکل بہت ہی عجلت میں لکھ رہا ہوں۔مزے کی بات ان کی آف لائن بینکس کی طرح کوئی فکسڈ ٹائمنگ نہیں ہے۔ آپ جب چاہیں انہیں استعمال کر سکتے ہیں۔یہ آف لائن بینکس کی طرح کریڈٹ اور  ماسٹر کارڈز بھی ایشو کرتے ہیں۔

پیمنٹ پروسیسرز پر رجسٹر کیسے ہوں ؟

ہر پیمنٹ پروسیسر کی اپنی ویب سائٹ ہوتی ہے۔ بس آپ نے اُس کو وز ٹ کرنا ہے اور رجسٹر  کے بٹن
سے  اپنی ممبرشپ حاصل کرسکتے ہیں۔ رجسٹر بٹن پر کلک کرنے سے ایک فارم ظاہر ہوگا۔ آپ نے بس اُس کو پر کرنا ہے۔ آپکا   اکاؤنٹ بن جائے گا۔مزے کی بات ان پر رجسٹریشن فری ہے۔

اکاؤنٹ بنانے کے بعد کیا کرنا ہو گاْ

اکاؤنٹ بنانے کے بعد آپ کو اپنی تصدیق کرانا ہو گی۔ ہر پیمنٹ پروسیسر کا تصدیق کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ مثلاً۔
۱۔ ای میل اکاؤنٹ کی تصدیق
۲۔ موبائل  یا فون نمبر کی تصدیق
۳۔ ذاتی تصدیق
۴۔ رہائش کی تصدیق
۵۔ بینک اکاؤنٹ کی تصدیق
۶۔کریڈٹ کارڈ کی تصدیق
۷۔ ٹیکسز کی تصدیق
ہر پیمنٹ پروسیسر کے ساتھ اسکی تصدیق کے مراحل اور طریقے زیر بحث لائے جائیں گے۔ امید ہے آپ  کو اس سلسلے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ 

پیمنٹ پروسیرز کی سکیورٹی

پیمنٹ پروسیسرز  کا زیادہ خرچہ ہی سکیورٹی پر ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک دن میں کھربوں ڈالرز ان پیمنٹ پروسیسرز کے زریعے ٹرانسفر کیے جاتے ہیں۔اسی لیے وہ  دنیا کے بہترین سکیورٹی  ماہرین اور بہترین نظام لگاتے ہیں۔اگر آپ اپنے ذاتی اکاؤنٹ کے بارے میں پریشان ہیں تو مطمئن رہیں۔ آپ کے اکاؤنٹ پر بہت ساری سکیورٹی لیئرز ہیں۔
۱۔ یونیک آئی ڈی۔ یہ بالکل منفرد(یونیک) سی آئی ڈی ہوتی ہے جو آپ کو رجسٹریشن کے وقت آ سائن کی جاتی ہے۔یہ کچھ اس طرح کی ہوتی ہے۔ مثلاً
U2303733T73Y23723    
۲۔مضبوط(سٹرانگ) پاسورڈ۔ سٹرانگ پاسورڈ  بڑے، چھوٹے حروف ، ہندسوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کی تعداد  چودہ حروف سے کم نہیں ہوسکتی ہے۔
۳۔ ماسٹر کی ۔ یہ بالکل پن کی طرح ہوتی ہے  اس کے بغیر نہ تو آپ سائن ان کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی سیٹنگز میں تبدیلی۔
۴۔ پِن کی۔یہ بالکل  ڈیبٹ کارڈز اور ماسٹر کارڈ ز کے حفاظتی کوڈز کی طرح ہوتی ہے۔ اس کے بغیر پیمنٹ نہیں بھیجی جا سکتی ہے۔
۵۔ایس ایم ایس  کے ذریعے تصدیق:  جب بھی آپ اپنے پیمنٹ پروسیسر میں لاگ ان کرتے ہیں یا پیمنٹ  سینڈ کرتے ہیں تو ایک  کوڈ آپ کے موبائل پر سینڈ کر دیا جاتا ہے۔  یہ بالکل اسی کوڈ کی طرح ہے جو آپ کو گُوگل ٹُو سٹیپ ویریفیکیشن کے وقت آپ کو بھیجا جاتا ہے۔ اب تو  یہ والا آپشن  فیس بک اور دوسرے سوشل نیٹ ورکس  پر بھی  آچکا ہے۔
۶۔ ای میل ویریفیکیشن ۔ اس طریقے  میں موبائل کی طرح ای میل پر ایک کوڈ آتا ہے۔مزید سکیورٹی کےلیے آپ اپنے ویب میل کا ٹُو سٹیپ ویریفیکیشن  انیبل کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ہم پیمنٹ پروسیسرز سے پیسہ بھی کما سکتے ہیں۔ کیسے ؟ یہ اگلے آرٹیکلز  میں ڈسکس کروں گا۔ تب تک کے لیے اجازت چاہتا ہوں۔ اللہ حافظ۔

Sunday, June 22, 2014

History, Evolution and Possibilities Of Online Earnings


 
History,Evolution and Possibilities Of Online Earnings
آن لائن ارننگز کی تاریخ ،وجود اور ممکنات

آن لائن ارننگز کی دوسری کلاس میں خوش آمدید۔ امید ہوگی پہلی کلاس آپ  کو بہت نہیں تو کم از کم تھوڑی بہت پسند آئی ہوگی۔ یہ کلاس میں نے پہلی کلاس کے ساتھ ہی شیڈول کر دی تھی تا کہ آپ لوگ میری مصروفیات یا   سستی کی وجہ سے متاثر نہ ہوں۔پچھلی کلاس نہ تو    تعارف پر مبنی تھی اور نہ ہی آن لائن ارننگز کا کوئی خاص پہلو نمایاں کر رہی تھی۔مگر اس کلاس میں ہم باقاعدہ تعارف کروائیں گے کہ آن لائن ارننگز  کیا بلا ہے اور کیا سچ مچ میں بھی پیسے ملتے ہیں  یا ایویں ہی  شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔

آن لائن ارننگز کا وجود

کل میں نے  ۸ جون کے خبریں اخبار کے کلاسیفائیڈ سیکشن میں ایک پیر کا اشتہار پڑھا جس میں وہ پیر فقیر دعوی کر رہا تھا کہ وہ لوگوں  کے لیے آن لائن استخارہ کرتا ہے۔ وہ اشتہار تو میرے پاس پڑا ہے مگر شومئی قسمت کے سکینر نہیں ہے۔ جب بازار جانا ہو گا تو ایک کڑوا گھونٹ بھر کر دس روپے کا سکین کروا لوں گا اور اس آرٹیکل میں پو سٹ کر دوں گا۔  یہ آرٹیکل ہی بتا تا ہے کہ اگر آن لائن استخارہ ہو سکتا ہے تو آن لائن ارننگز بھی ہو سکتی ہیں۔ اور پیر بھی اس استخارے کے بدلے میں پیسے مانگ رہاتھا۔ جو اس بات کا   ثبوت ہے کہ  پیسے یا ڈالر حقیقت میں بھی ملتے ہیں۔اب اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتنی مقدار میں پیسے کمائے جا سکتے ہیں تو بھائی جان وہ پیر اتنے پیسے تو کما سکتا ہی  ہے کہ اشتہار کی فیس آفورڈ کر سکتا ہے۔ جو یقینی طور میں آفورڈ نہیں کر سکتا۔ مطمئن رہیں ،میں آپ کو ایسا کوئی کام کرنے کو کہوں گا جو پیر صاحب کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد سمجھانے کے علاوہ کوئی نہیں ۔اگر ایسا کوئی کام کرنے کا آپ کا موڈ ہے تو  اپنی ذمہ داری پر کریں۔ اس بلاگ کے ایڈمنز، مصنف یا  اس بلاگ سے منسلک کوئی شخص ذمہ دار نہیں ہو گا۔آپ کے اپنے افعال کے خالصتاً خود ہی دمہ دار ہوں گے۔

آن لائن ارننگز کی تاریخ :

آن لائن ارننگز کے وجود  کے بارے میں  میں کوئی خاص تاریخ یا مہینہ بتانے سے قاصر ہوں مگر میں اسے بنی نوع انسان کے ارتقاء سے ہی شمار کروں گا۔کیوں کہ انسان نے شروع میں شکار یا دوسرے کام کیے اور ایک دوسرے کے ساتھ بارٹر سسٹم کے  ذریعے تجارت شروع کردی۔ اسی طرح  کچھ عرصے بعد سکوں سے ہوتا ہوا نوٹوں سے ہو کر ڈیجیٹل  سسٹم  تک پہنچ گیا۔ بالکل اسی طرے پہلے زریعہ فرد، پھر ڈاک،موبائل سے ہوتا ہوا موبائل اور ای بینکنگ تک پہنچ گیا۔اب تو  اتنی تعداد آف لائن بینکس کی نہیں جتنی آن لائن بینکس  کی ہے۔ان  آن لائن بینکس کو پیمنٹ پروسیسز کہتے ہیں ۔ انشاء اللہ اگلے آرٹیکل میں  ہم  پیمنٹ پروسیسز کو ڈسکس کریں گے۔

آن لائن ارننگز ہوتی کیا ہیں

جس طرح ہم روزمرہ زندگی  میں بہت سے کام کرتے ہیں۔ اس  کام کے عوض ہمیں اجرت ملتی ہے۔جتنے آپ پروفیشنل ہوں گے اتنی آپ کی کمائی ہوگی۔ اسی طرح کچھ کام ہوتے ہیں جو اس خطے میں نہیں ہو سکتے ۔ ان کے دو  طریقے ہیں۔ ایک آپ وہ کام کروانے کےلیے دوسرے  خطے میں جائیں۔ دوسرا  دوسرے خطے سے پروفیشنل منگوالیں۔ دونوں صورتوں میں سفر،رہائش،رقم  اور وقت کا خاصی بے دریغی سے استعمال ہوتا ہے۔اسی طرے آپ چھوٹی سی کمپنی کے مالک ہیں اور آپ کو ٹاسک مل جاتا ہے۔ آپ  کے ملازمین کی تعداد  اس ٹاسک کو وقت پر مکمل نہیں کر سکتے  اور نہ ہی آپ اس ٹاسک کو مکمل کرنے کے لیے لوگ رکھ سکتے ہیں۔ تیسرا کیس یہ ہے کہ آپ کسی کمپنی کے مالک نہیں اور آپ کو کوئی کام کرنا پڑ جاتا ہے اور وہ آپ بخوبی سر انجام نہیں دے سکتے۔نہ ہی تو آپ ملازم رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس سب کے لیے  باہر جا سکتے ہیں۔
ان سب کیسز میں آپ کسی بھی ٹاسک  کو کرنے کے لیے  باہر جانا پڑتا ہے  یا افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔شروع میں لوگوں کے پاس اتنا وقت ہوتا تھا کہ وہ یہ سب ارینج کر سکتے تھے مگر اب یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اب پروفیشنلز کے پا س بھی اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ سب کام چھوڑ چھاڑ کر دوسرے کام کی طرف چلے جائیں۔ انٹرنیٹ نے سہولت پیدا کر دی ہے کہ یا تو پروفیشنلز سے ڈائریکٹلی آن لائن کام کرا سکتے ہیں یا ویڈیو کال یا  کسی اور زریعے سے مدد حاصل کر سکتے ہیں اور کم قیمت پر  اپنا کام کرا سکتے ہیں۔اگر آپ کا مسئلہ کسی پروڈکٹ سے متعلق ہے تو ہر مینوفیکچر اپنے کسٹمرز کو مفت ہیلپ اور رہنمائی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔اور اب تو  انٹرنیٹ پر بھی ہیلپ مل سکتی ہے۔مگر یہ اتنا آسان نہیں ہے کیوں کہ آرٹیکل اور رئیل لائف میں  زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی بھی فیلڈ میں پروفیشنل ہیں تو  آپ آن لائن ہیلپ سے خوب فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اپنی ارننگز کو چار چاند لگا سکتے ہیں۔پروگرامرز کی تو ہر جگہ چاندی ہی ہوتی ہے کیونکہ ان کی کہیں نہ کہیں ایڈجسمنٹ ہو ہی جاتی ہے، رئیل لائف میں بھی اور انٹرنیٹ پر بھی۔دوستو یہ آرٹیکل کافی لمبا ہو گیا ہے۔  میں نے پروگرامنگ پر بھی ایک بلاگ بنایا ہے، اس کو بھی اپ ڈیٹ کرنا ہے۔وہ دوست بھی انتظار کر رہے ہوں گے۔ اگلے آرٹیکل  میں  ہم  پیمنٹ پروسسیسرز  پر بات کریں گے۔میں ساتھ ساتھ انڈیکس تیار کررہا ہوں۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ اللہ حافظ