Thursday, February 13, 2014

What are Online Earnings- An Introduction

How To Earn Money Online-An Introduction in Urdu
How To Earn Money Online-An Introduction in Urdu

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان،نہایت رحم کرنے والا ہے۔
انداز بیاں گرچہ شوخ نہیں، شاید کہ تیرےدل میں اترجائے میری بات۔
آپکو میں آن لائن اررننگ کی کلاسز میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ ان کلاسز میں میں آپ کو انٹرنیٹ سے پیسہ کمانے کا فن اور طریقے سکھاؤں گا۔اگرچہ ابتدا میں یہ عمل آہستہ ہوگا مگر  وقت کے ساتھ ساتھ رفتار بڑھتی جائے گی۔
میراسکھانے کا انداز  تمام روایتی طریقوں سے مختلف ہوگا۔اور نہ ہی ہم ان روایتی طریقوں پر انحصار کریں گے۔جیسے پی ٹی سی،ایڈ پوسٹنگ وغیرہ وغیرہ۔انشاءاللہ ان سب طریقوں سے ہٹ کر کام کریں گے۔کبھی کبھار ایک دو پروگرامز ڈسکس بھی کر لیا کریں گے۔اسی بہانے روایتی طریقوں کا پوسٹ مارٹم بھی ہو جائے گا۔
اس سب سیکھنے سکھانے کے عمل میں آپکو  ان اشیاء کی ضرورت پیش آئے گی۔
۱۔ انٹرنیٹ: انٹرنیٹ آپ کے اور ارننگ پروگرام کے درمیان رابطے کا  ذریعہ  یا میڈیم ہوگا۔
۲۔ کمپیوٹر یا سمارٹ فون۔ یہ وہ ہارڈوئیر ہوں گے جن پر آپ اپنا  کام  تشکیل دے سکیں گے۔
۳۔ صبر: یہ سب سے ضروری چیز ہے جو آپ کو آپ کے حکمرانوں اور واپڈا والوں  نے بخوبی سکھا ہی دی ہوگی۔اگر نہیں تو  انٹرنیٹ  اور موبائل فونز  پر  سکیمز ہی  نے سہی۔ صبر کی بات اس لیے کی کہ ایشیائی ممالک  آن لائن ارننگز پروگرامز میں پسند نہیں کیے جاتے جس کی بنیادی وجہ بے حساب سپیم یا حد سے زیادہ چالاک ہونا ہیں۔
پوائنٹ تھری میں میں نے  دو ٹرمز استعمال کی ہیں۔ پہلی سکیمز  والی۔ دونوں کی وضاحت کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتا ہوں۔

 سکیم کیا ہوتا ہے؟

سکیم کا لغوی معنی فراڈ کے ہیں۔فراڈ  کا  روز آپ اخبارات میں پڑھتے ہی رہتے ہوں گے۔ مثلاً  کچھ دن پہلے مضاربہ سکینڈل ہواتھا۔اس کے علاوہ کچھ لوگ سادہ لوح لوگوں کو کال کر کے کہتے ہیں کہ آپ کا انعام نکلا ہے اور ان کو بیلنس یا موبائل بینکنگ کے زریعے ٹھگ لیتے ہیں۔اور تیسری وہ آصمہ باجی ہیں جو کبھی باتھ روم میں ہوتی تھی اور اس کا بیلنس ختم ہو جاتاتھا اور پانی بھی۔ اور کبھی ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوتی تھی۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔وہ اب بھی ہاسپٹل اور باتھ روم میں جاتی ہے۔ مگر اس کو پے پال کے ڈالرز ضرورت ہوتے ہیں۔ایک دو سے تو اس کا  کام نہیں چلتا۔ وہ بھی پورے پانچ ڈالر ضرورت ہوتے ہیں جو آج کے ۵۰۰ پاکستانی روپوں کے برابر ہیں۔ مگر کیا کریں  کم سے اس کا گزارا نہیں ہوتا ہوگا نا کیوں کہ  پانی کے ٹینکر والا بھی پانچ سو مانگتا ہے اور ڈاکٹر بھی۔پتا نہیں اس کی حالت قابل رحم ہوتی ہے پھر بھی اس کا    ایس ایم ایس پیکج اور انٹرنیٹ بھی چل رہا ہوتا ہے۔
میرے ایک دوست کے ساتھ کچھ اس طرح کا سکیم ہوا ہے کہ اس نے ایک ڈیٹا انٹری کا ایڈ دیکھا تو اس کی رالیں ٹپک پڑیں۔ اس نے مجھ سے مشورہ کیا تو میں حسب توقع مجھے جلی کٹی سنا کے چلا گیا۔و ہ مجھے یہ بھی کہہ کر گیا کہ میں اس کی کامیابی سے گبھراتا ہوں۔ اس نے خوب انویسٹمنٹ کی۔ اگر وہ اتنی انویسٹمنٹ کرتا تو زندگی میں پہلی مرتبہ کوئی ڈھنگ کے کپڑے اور جوتے ہی پہن لیتا۔یا  یہ نہ سہی تو وہ ایک بکری لے لیتا اور اس کا دودھ روز پیا کرتا۔ دو تین بھائی جان نے دنیا جہاں  کا کوئی اور کام ہی نہیں کیا۔اور وہ ہر وقت اپنی سکسیس سٹوری کا کوئی عنوان سوچتا  رہتا۔ چار دن تک جب میرے پیارے دوست کو پیمنٹ نہ ہوئی تو کمپنی کے  آفس جانے کی تیاری کرنے لگے۔جب  آفس کے دروازے پر پتا چلا کہ وہاں گنے کا جوس مل رہا تھا۔گرمی کے لیے اچھی چیزہوتی ہے  نا۔
یہ سب سکیمز  ہوں اور ویب ماسٹرز پیچھے رہ جائیں۔وہ تو موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ ان کے واردات کے دو طریقے ہیں۔اول  یہ کہ وہ انویسٹ کی مد میں پیسے لے لیتے ہیں یا دوم یہ کہ وہ کام لے کے پےمنٹ نہیں کرتے۔ان دونوں صورت حال آپ کے لیے یقیناً ناقابل قبول ہوں گی۔دونوں صورتوں میں نقصان آپکا ہی ہوگا ۔خیر آنے والے آرٹیکلز میں  میں تو  خوب  ان کی ماں بہن کروں گا۔ سکیمنگ مطلب فراڈنگ پر میرے  آنے والے  آرٹیکلز  اس کی وضاحت کریں گے۔

سپیم کیا ہوتا ہے؟

 سپیم  کی بہت سی تعریفیں اور مثالیں ہیں مگر میرے نزدیک  کسی ناپسندیدہ کام کو سر انجام دینا ہے۔ مثال کے طور پر آپ پورا والیم(آواز) کھول کر  اپنا من  پسند گانا یا نعت سنتے ہیں۔کو ئی بھی وجہ ہو گی۔ شاید آپ اونچا سننا پسند کرتے ہوں ۔شاید آپ نے اونچی  آواز میں گانا اس لیے لگا یا ہو کہ آپ کے پڑوسی جو اس گانے کو سننا چاہتے ہیں وہ آپ کی ڈیوائس پر ہی اکتفا کر لیں۔ بجلی بھی بچ جائے  اور انٹرٹینمنٹ کی انٹرٹینمنٹ ہی ہو جائے۔اسی طرح آپ اونچی آواز میں نعت لگا کر اپنی نیکیاں بڑھا لیں یا کسی کا ایصال ثواب کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ گانا سن رہے ہیں تو کسی مذہبی انسان کی دل زاری کر رہے ہوں گے یا محلے میں کہیں سوگ یا موت مرگ ہوگی  ۔اسی طرح نعت سے بھی کسی  بھی مذہب کے انسان کی عبادت میں خلل ڈال سکتی ہے۔ یا کسی مریض کو تنگ کر رہے ہوں گے۔ آپ کے یہ عمل کسی انسان کےلیے پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی لیے اسلام میانہ روی کا حکم دیتا ہے اور حقوق العباد کی خوب ترغیب دیتا ہے۔
سپیم کی وضاحت ایک اور مثال سے کرتا ہوں۔  آپ کے ایک پڑوسی ہیں جو بچپن میں ہر وقت آپ کو طعنہ دیتے تھے کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے اور آپ ان کو غلط ثابت کرتے ہوئے ایک دن کامیاب ہو جاتے ہیں اور آپ ان کو جلانے کے لیے گاڑی یا  تو گلی کے عین وسط میں کھڑی کرتے ہیں یا بالکل ان کے گیٹ پر۔ بھئی یہی تو سپیمنگ ہے۔
آپ  کسی کی بیل بجا کے بھاگتے ہیں ، یہ بھی سپیمنگ ہوئی۔آپ کسی کو بار بار مس کال کرتے ہیں تو سپیمنگ اور اسی طرح آپ کسی کو لگاتار ٹیکسٹ کرتے ہیں تو یہ بھی سپیمنگ ہی ہوئی۔
 آپ کے لیے نہ سہی ، اس ویب سائٹ کے ایڈمن یا باقی کمیونٹی  کےلیے ہی سہی۔  اب مجھے انٹرنیٹ پر سپیمنگ کی مثالیں دینے میں آسانی ہوگی۔ایشئین ممالک کے انٹرنیٹ یوزرز کا یہی تو مسئلہ ہے کہ یہ ہر جگہ ٹانگ اڑاتے ہیں۔ کچھ تو مرغی کا پیٹ پھاڑ کر امیر بننا چاہتے ہیں۔ اور کچھ پیمنٹ کا انتظار بھی نہیں کر سکتے۔ زیادہ امیر بننے کے چکر میں کوئی ڈھنگ سے نہیں کرتے بلکہ ویب سائٹس کے مالکان کے لیے نئی مصیبت بن جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایشیئن ممالک کے یوزرز کی بہت سی سائٹس میں انٹری ہی بند ہے۔اب اگلے آرٹیکلز میں یہ بات نہیں دہراؤں گا۔
بیشک یہ آرٹیکل ادھورا ہے مگر آج کا آرٹیکل یہیں پر ختم کرتا ہوں۔ اور اگلے  آرٹیکل میں ہم  آن لائن ارننگز کی سیڑھی کے پہلے پائے پر قدم رکھیں گے۔ آپ سب ناراض ہوں گے کہ کیسا بندہ ہے، جان پہچان کرائی ہی نہیں ہے اور شروع ہوگیا ہے۔مطمئن رہیں۔میں نے اپنا تعارف اس ویب کے ایک پیج پر کرادیا ہے۔اس پیج کو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کرتا رہوں گا۔ ایک اور بات!
اگر آپ نہیں سیکھنا چاہتے ہیں تو کوئی آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔ اور اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو کوئی آپ کو نہیں روک سکتا۔
اسی کے ساتھ آج کے لیے اجازت چاہتا ہوں۔اگلے آرٹیکل میں پھر ملیں گے۔ اگلا آرٹیکل میں شیڈول کرنے لگا ہوں۔
اللہ حافظ